اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عراق میں داعش نامی دھشتگرد ٹولے کے وجود میں لائے جانے اور عراق کے اکثر سنی نشین علاقوں پر اس ٹولے کے ذریعے قبضہ کئے جانے کے بعد یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ اس ملک میں شیعہ سنی اختلاف کی آگ بھڑکائی جائے گی اور شیعہ سنیوں کو آپس میں لڑایا جائے گا لیکن عراق کے شیعہ سنی مسلمانوں نے ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے داعش کے مقابلے میں اتحاد اور یکپارچگی کا ثبوت دیا اور اس دھشتگرد ٹولے کے مقابلے کے لیے میدان میں نکل پڑے۔
شیعہ گروہوں میں سنی مجاہدوں کی شمولیت
عراق کے شیعہ عسکری گروہ عصائب اھل الحق میں ’’نوار محمد‘‘ کی طرح کئی ایسے سنی مجاہد موجود ہیں جو شیعہ بھائیوں کے شانہ بشانہ اس دھشتگرد ٹولے داعش کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

نوار محمد ان ڈھائی سو مجاہدوں میں سے ایک ہیں جو ’’العلم‘‘ کے علاقے سے عصائب اھل الحق میں شامل ہوئے تاکہ اپنے شہر کو دشمنوں کے چنگل سے آزاد کروائیں۔
واضح رہے کہ عصائب اھل الحق عراق کے ان قوی ترین عسکری گروہوں میں سے ایک ہے جو گزشتہ چند سالوں میں تشکیل پایا اور دھشتگرد ٹولوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈٹ گیا۔ عصائب اھل الحق صرف شیعوں جوانوں سے مخصوص عسکری گروہ نہیں ہے بلکہ اس میں سینکڑوں کی تعداد میں اہل سنت کے جوان بھی موجود ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲